Revisiting Bangla Desh 1971
I served as a young captain and major in Dhaka and Chittagong and then as second in command and later as commander of 3 Commando Battalion , in the fateful 1971 .I was there from early April to early Oct . We were at the heart of events ; we picked up Mujib Ur Rehman from his residence on25th March ,71.We were directly under command Eastern Command and as SSG battalion commander I received direct orders from Gen Niazi, Gen Rahim and later Gen Qazi Majid of 14 Div Dacca .Of the adversaries Gen Zia Ur Rehman was a fellow instructor at Pakistan Military Academy , Gen Khalid Musharof , who overthrew Zia in a counter coup was my course mate / room mate at PMA and fellow officer in SSG. Brig Abu Tahir , who brought Gen Zia back into power in a counter -counter coup ,was also a friend and fellow officer in SSG . He was a leftist and was jailed and later hanged by Gen Zia .Another leftist friend was Maj Zia Ud Din , who as a freedom fighter and Naxalite remained under ground from 1971 to1989 , when a general amnesty was declared .
I came back to West Pakistan for getting my promotion to Lt Col, in my parent corp Ordnance , in Oct 71.I was a mental patient and suffered complete loss of memory from Dec71 till my retirement on medical grounds in 1973 . I remained in the nut house for six months in 1973. As a Punjabi writer I regained my memory and rebuilt my life.I remember every moment in !971.For operations and visiting my sub units , I traveled all over East Pakistan . I never killed anybody nor ever ordered any killing . I was fortunately not even witness to any massacre . But I knew what was going on in every sector . Thousands were killed and millions rendered homeless . Over nine million went as refugees to India .An order was was given to kill the Hindus ; I received the same order many times and was reminded of it . The West Pakistani soldiery considered that , Kosher ,. Hamood Ur Rehman Commission Report mentions it too . Of the ninety three lakh refugees in India , ninety lakh were Hindus .That was the cause of world wide bad press and our moral defeat . Military defeat was easy due to feckless military leader ship.Only couple of Battalions in the North offered some resistance e.g, the unit of Maj Akram Shaheed Nishan -e Haider .
East Pakistan a part of the country more than a thousand miles away was ," a geographical and political absurdity " as John Gunther said in " Inside Asia Today " . With the capital in Karachi and domination of the west wing , ruled by West Pakistani civil servants and what they called a Punjabi Army , East Pakistanis felt like a colony .They never liked it since 1947. In early sixties my fellow Bengali officers called each other general, a rank they would have in an independent East Pakistan .We all took it in good humour . But 1971 was not a joke and every single Bengalli felt oppressed , with right of life and death in the hands of what they called ," Shala Punjabies ".
I gave a long interview recounting what I saw and felt in 1971 to BBC Urdu Service in Dec 2007 . They have kept a copy of that interview in Bangladesh Liberation Museum .What drove me mad ? Well I felt the collective guilt of the Army action , which at worst should have stopped late April 71 . It went on and on .The world outside did not know what went on and depended on reporters who were not there . . Gen Tikka was branded , "Butcher Of Bengal " . He hardly commanded for two weeks , even then the real command was in the hands of Gen Mitha , his second in command , who knew every inch of Bengal and personally took charge of every operation , till Gen Niazi took over and and Gen Mitha returned to GHQ .Gen Tikka was a good governor and made sure that all services ran ;trains , ferries , postal services and there was no shortage of food , anywhere by May 71; all in all a better administrative situation , than Pakistan of today !But like Pakistan of today , nobody gave a damn about what happens to the poor and the minorities .My worry today is whether my grand daughter goes to Wisconsin University or Harvard . That nobody gets no education in my very large village or in the Urdu Medium Schools of Lahore , where I have lived as so called concerned citizen for forty years , does not worry me or anyone else.We are bound to repeat history and not all the NGOs or waters of the seven seas can wash our guilt away or prevent the inevitable denouement .Who loses any sleep over what happens in FATA, Khyber Pakhtunkhwa or Afghanistan ; or Karachi for that matter ?The rich and the powerful of this land do not worry .They live off the fat of this land and there is plenty of fat whether the beast lives or dies .
Nadir Ali (a retired colonel and my father)
The interview in Urdu:
کرنل (ر) نادِرعلی کی 1971 کے بارے میں یاداشتیں
میں 1962 سے 1966 تک بنگلہ دیش میں رہا، جو اُس وقت مشرقی پاکستان تھا۔ اس وقت حالات پُرامن تھے اور میں بطور ایک جوان میجر اپنی پوسٹنگ سے بہت خُوش تھا۔ میری ڈیوٹی سنٹرل آرڈیننس ڈپو میں تھی لیکن 1965 کی جنگ میں وولنٹیر کرکے ایس ـ ایس ـ جی میں چلا گیا اور کمانڈو بٹالیئن جوائن کرکے دو سال ان کے ساتھـ چٹاگانگ رہا ۔ جنگ کے دوران ہماری کمپنی شمالی بنگال میں تھی لیکن اُدھر صرف کیمپ کیا ہوا تھا کیونکہ 1965 میں اُدھر کوئی جنگی ایکشن نہیں ہوا ۔
میرے لئیے زندگی کے یہ سال اس لیئے یادگار ہیں کیونکہ اِس دوران میرے بہت سے دوست بنے اور ویسے بھی وہ علاقہ مجھے بہت پسند تھا ۔ پھر میں 1967 کے شروع میں واپس آگیا اور اس کے بعد 1971 میں چھـ مہینے کے لیے دوبارہ گیا ۔
اب فوج کی جہاں تک بات ہے، ساٹھھ کی دہائ تک ہماری حکمتِ عملی تھی:
"The defence of East Pakistan lies in West Pakistan"
یعنی "مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان میں ہے"۔ اِسی لیئے وہاں صرف ایک ٹوکن فورس رکھی ہوئ تھی جو دفاعی طور پر بالکل ناکافی تھی۔ میرے خیال میں پُورے مشرقی پاکستان میں صرف ایک یا ڈیڑھ بریگیڈ تھی۔ایک بٹالیئن ڈھاکہ میں تھی ، دو کمیلا میں اور ایک جیسور اور یہ ہماری کُل دفاعی قوت تھی مشرقی پاکستان میں ۔ ایک ٹریننگ سنٹر تھا اِیسٹ بنگال رائفلز کا چٹاگانگ میں۔
1965 ء میں ایک وجہ یہ دی جاتی ہے ۔ جو اصل میں کوئی وجہ نہیں ہے کہ مشرقی پاکستان والوں نے سوچا کہ اِدھر کوئی فوج نہیں ہے ۔ اگر ہم پر حملہ ہو جائے تو ہم کیا کریں گے
مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی جو لہر آئی اُس وقت کسی اور طرح نظر آتی تھی لیکن سچ تو یہ تھا کہ اِس کا بیج بہت پہلے ہی بو دیا گیا تھا ہماری کرتوتوں کی وجہ سے۔
جب 1964 ء میں صدارتی الیکشن ہوا جو ایوب خان نے مِس فاطمہ جناح کے خلاف لڑا تو میں نے 1964 ء میں الیکشن ڈیوٹیاں کیں، ڈھاکہ کی سب ڈویثرن مانک گنج میں، جِس کو عوامی لیگ کا حمائتی علاقہ مانا جاتا تھا۔ لیکِن میں نے دیکھا کہ وہاں ایوب خان کے لیئے بھی بہت سپورٹ تھی۔ اس وقت اِن ڈائریکٹ ووٹ تھےیعنی جو بیسک ڈیموکریٹ تھے، بی ڈی ممبر، وہ ووٹ دے رہے تھے ۔ اُدھر بی ڈی سسٹم کا مغربی پاکستان یہ فرق تھا کہ وہاں بی ڈی سسٹم کامیاب ہوا برعکس مغربی پاکستان کے ۔ کیونکہ وہاں جو بی ڈی کے لیے پیسے ملتے تھے وہ اُنہیں لگانے پڑتے تھے ۔ کیونکہ عام لوگوں کے اندر سیاسی سمجھـ بُوجھھ تھی ۔اِس لیئے وہاں کچھـ سڑکیں بنیں، اور بھی بہت کام ہوۓ۔
ایک عام فوجی بنگالیوں کو اپنے سے نچلا انسان سمجھتے تھے ۔مثلاً یہ کہ آپ سے ان کا قد چھوٹا ہے اور عام طور پر غربت ہے اور آپ کے پاس نوکری ہے اور نسبتآ رہن سہن بہتر ہے ۔ تو شاید اسی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ یہ کوئی علحیدہ مخلوق ہے ۔ کوئی اس طرح کا تعلق نہیں تھا کہ بنگالی کلچر کو اپنایا جائے، ان کی زبان سیکھی جائے ۔ بس کچھـ گنے چنے افسر تھے جنہوں نے بنگالی عورتوں سے شادی کی ۔لیکن ایسا گھلنا ملنا نہیں تھا کہ ہم ان کا حصہ محسوس کرتے ۔ لیکن میں وہاں بہت خوش تھا نسبتا دوسرے سٹیشنوں کے مثلاً کراچی ، لاہور ، راولپنڈی وغیرہ جہاں میں نے نوکری کی ۔
1968 میں اگر تلہ سازش کیس بنایا گیا۔ اِس کیس میں جِن لوگوں کے نام لیئے جا رہے تھے اور جو باتیں بطور الزام بتائ جا رہی تھیں، یہ بہت عام باتیں تھیں اور مزاق سے بولی جاتی تھیں۔ مثلاً جو میرے ساتھھ کے فوجی تھے وہ ایک دوسرے کو عہدے کی نسبت بلاتے تھے، جیسے کہ "کیپٹن"، " میجر" وغیرہ۔ اب مزاق یہ تھا کہ اگر مشرقی پاکستان علیحدہ ہو جاۓ تو سب کی ترقیاں ہو جایئں گی اور جب ڈرِنک کرنے بیٹھتے تو ایک دُوسرے کو "جنرل، بات سُنو"، "بریگیڈیر، ادھر آؤ" کہ کر ہنستے۔
جب ہمیں اگر تلہ کیس کے بارے میں بریف کیا گیا تو میں مغربی پاکستان میں تھا۔ بریفنگ افسر جرنل اعوان نے جب یہ غیر سنجیدہ گفتگُو بطور الزام ہمیں بتائیں تو مُجھے بڑی تکلیف ہوئ اور میں نے اُن سے کہا کہ یہ تو مزاق تھا اور اِس کو سازش سمجھنا تو بہت مضحکہ خیز بات ہے۔
اب بنگالی افسروں کا ذِکرآیا ہے تو جب 1971 کی گڑبڑ شروع ہوئ تو سارے بنگالی افسر بھاگ گئے سوائے چند کے جومغربی پاکستان میں اپنی مرضی سے رہ گئے، لیکن ایسے اِکا دُکا ہی تھے۔ ایک تو تھے ایم ایم عالم ایئر فورس والے اور دوسرے کرنل قیوم تھے ۔ کرنل قیوم بڑا برائِٹ بنگالی افسر تھا جس نے 1950 میں ’’ سورڈ آف آنر ،، لی تھی ۔ وہ پاکستان کو مانتا تھا اور کہتا تھا کہ میں آرمی کے خلاف بغاوت نہیں کروں گا ۔
پھر اس کے ساتھـ بڑا عجیب حادثہ ہوا ۔ اس کا بھائی ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہیڈ آف بنگالی ڈیپارٹمنٹ تھا۔ جب ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسرز مارے گئے تو اس کا بھائی بھی اُن میں شامل تھا ۔ کرنل قیوم نے یہاں سے استیفٰی دے دیا۔ پھر اُنہیں یہاں بطورسویلیئن پروفیسر اسلام پڑھانے پر لگا دیا ۔ وہ ابھی تک یہاں ہی ہے، اور بہت پڑھا لکھا اور اچھا آدمی ہے۔
جب 25 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں ایکشن شروع ہوا تو میں پی ـ ایم۔ اے میں پڑھا رہا تھا اور میری بٹالیئن مشرقی پاکستان میں تھی’’تھری کمانڈو بٹالیئن ،،۔ اُس وقت عوامی لیگ کے خِلاف زبردست پراپیگینڈہ ہو رہا تھا۔ ایسے لوگ بہت کم تھے جِن کو سیاسی شعور تھا اور جو سمجھتے تھے کہ بنگال میں ایکشن نہیں ہونا چاہئیے ۔ لیکن عام آدمی کا یہی خیال تھا کہ علیحدگی کی لہر ختم ہونی چاہئے،لوگوں کو حُب الوطن ہونا چاہیئے، ، یہ ملک کے خلا ف بغاوت ہے، یہ کوئی ہندوستان والوں کی سازش ہے ۔
شیخ مجیب الرحمٰن کو بھارت کا حمائتی ثابت کرنے کے لیئے اُس پر کئ طرح کے لیبل لگائے جاتے تھے۔ مجیب الرحمٰن ایک عوامی لیڈر تھا بھی اور نہیں بھی ۔ اس کا سارا سٹانس ایجیٹیشنل تھا ۔ عوامی لیگ میں تو اس نے اپنی جگہ بنالی جہاں وہ مِسٹر سُہروردی کے بعد دوسرے نمبر پر تھا اور پھر پارٹی لیڈر بن گیا ۔ وہ ایک مقبول لیڈر تھا جو کبھی حکومت کا حصہ نہیں بنا، نہ کوئ وزارت لی۔ پھر اس نے اپنے چھـ نکات پیش کئے جن کے اُوپر الیکشن لڑا گیا ۔
یہاں ایک عجیب تضاد کی کہانی شروع ہوتی ہے ۔ یحیٰی خان نے ایک لیگل فریم ورک آرڈر بنایا جس میں ایسی باتیں تھیں مثلاً ’’مُلک کے خلاف کوئی بات نہیں کی جائے گی، آئین اور فیڈریشن کے خلاف بھی کچھـ نہیں کہا جائے گا ،، وغیرہ ۔ مجیب الرحمٰن کے چھـ نکات اس کے بالکل اُلٹ تھے جِن کے مطابق کرنسی اور خارجی امور وفاقی حکومت کے پاس رہنے تھے، باقی تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہونے تھے اور پاکستان کے دونوں حصوں میں علٰحیدہ علٰحیدہ دارالحکومت بننے تھے۔
اب اِس چیز کو روکنے کے لئیے عجیب عجیب اقدامات کئیے جا رہے تھے۔ ڈھاکہ میں اُس وقت سیکنڈ کیپیٹل زِیرِ تعمیر تھا ۔ جس وقت 1971 میں وہاں گئے تو ہم اپنے سیکنڈ کیپیٹل گئے تھے ۔ وہاں جو آج کل پرائم مِنسٹر ہاوس ہے وہ ہمارے یونٹ کی لائنز تھیں ۔ وہیں زِیرِ تعمیر خالی عمارتوں میں ہم رہائش پذیر تھے ۔
منصوبہ یہ تھا کہ وفاقی حکومت کا کچھـ حصہ ڈھاکہ منتقل کر دیا جائے ۔ ِاس کی کیا شکل ہوگی ، ڈھانچہ کیا ہو گا یہ کبھی کسی نے نہ سوچا تھا ۔ اُوپر سے کچھـ کہا جاتا تھا اور اندر سے کچھـ اور کام ہورہا ہوتا تھا ۔ ظاہری سی بات ہے ایک فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت ہو تو ساری طاقت ایک شخص میں مرکوز ہو جاتی ہے ۔ اور وہ شخص مغربی پاکستان میں تھا اور ایک ایسی فوج کا سربراہ تھا جس میں اکثریت مغربی پاکستان والوں کی تھی ۔ یہ تضاد تو پہلے دن سے تھا ۔ اس کو سیکنڈ کیپیٹل بنا کر کیسے دور کیا جاسکتا تھا ؟
عام لوگوں میں تاثر یہی تھا کہ بنگال کی بات کرنے والے حبُ الوطن نہیں ہیں ۔
اب یہاں سے میرا اپنا تجربہ شروع ہوتا ہے ۔ میری یونٹ وہاں تھی ۔ میں بنگلہ دیش رضاکارانہ طور پر گیا ۔ ایک میجر جو یہاں سے جا رہا تھا اس کو بتایا گیا کہ اگر تم نہیں جانا چاہتے تو اپنا نام کٹوالو کیونکہ یہ شخص جانا چاہ رہا ہے ۔ تو اس نے اپنا نام کٹوا کر میرا نام ڈلوادیا ۔ جب مجھے خبر آئی تو میں بہت خوش ہوا ۔ اس وقت میں پی ایم اے میں انسٹرکٹر تھا ۔ اب یہ میرے اندھے پن کی مثال ہے کہ میں اُس فوج کا حصہ بن گیا جو وہاں ایک بغاوت کُچلنے جا رہی تھی
۔
جو بندہ یہ سوچتا ہو اس کا روّیہ ٹھیک تو نہیں ہو سکتا۔ ا صل میں بات حُب الوطنی کی نہیں ہوتی۔ فوجیوں کا مسئلہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی چور کو چھوٹی موٹی چوری کی عادت ہوتی یا کسی نشئی کو نشے کی ۔ فوجیوں کا بھی یہی دل چاہتا ہے کہ اپنے یونٹ کے ساتھـ لڑائی میں حصہ لیں ۔ 1965 میں چونکہ میں وہاں تھا تو میں کوئی زیادہ ایکشن نہیں دیکھـ سکا تو میرے دل میں بھی یہ خواہش تھی ۔ لیکن اُس وقت میرے لیئے ایکشن میں حِصہ لینے کے علاوہ کُچھھ اور دیکھنا سمجھنا ممکن نہ تھا ۔ جس کا مجھے بعد میں احساسِ جرم بھی ہوا ۔
٭٭٭
جب میں رضاکارانہ طور پر وہاں پہنچ گیا تو مجھے وہاں کے عام فوجی کے مقابلے میں ایک برتری حاصل تھی اور وہ یہ کہ میں نے پہلے سارا مشرقی پاکستان دیکھا ہؤا تھا۔
میں یہ بھی جانتا تھا کہ 1968 سے مذاق ہو رہا ہے۔ نہ تو کوئ خفیہ تنظیم تھی اور نہ ہی کوئ سازش۔ اور یہ سو فیصد سچ ہے کہ جُون، جولائ، اگست تک جب ہم اُن جگہوں پرجاتے جہاں بغاوت رپورٹ کی جاتی اور فوج کنٹرول اپنے ہاتھھ میں لیتی، وہاں اصل میں ہوتا کچھھ بھی نہیں تھا۔ نہ تو کوئ منّظم مزاحمت تھی اور نہ ہی مزاحمت کاروں کا کوئ پلان تھا۔ اصل میں مزاحمت کرنے والے تمام لوگ بھاگ کر انڈیا چلے گۓ تھے۔ انڈیا والوں نے انہیں کچھھ تربیت دے دیتے، انہوں نے بارڈر کے تھوڑا اندرآ کر کچھھ کاروائ کرنی اور بھاگ کر واپس چلے جانا۔ کافی عرصہ تک یہ کام چلتا رہا۔
تو میں اُن لوگوں میں سے تھا جو نہ صرف اس علاقے کا واقف تھا بلکہ یہ بھی جانتا تھا کہ اصل حقائق کُچھ اور ہیں۔
ہؤا یوں تھا کہ کچھھ مقامات پر مقامی پولیس، انصار اور ای پی آر سرکاری دفتروں میں بیٹھھ گئ اور اعلان کر دِیا کہ ہم آزاد ہو گۓ ہیں۔ فوج نے ایک ایک کر کے کنٹرول ان سے واپس چھین لیا بغیر کسی مزاحمت کے۔
باری سال سب سے آخری ڈ سٹرکٹ تھا جس کو کلئیر کیا گیا، 25 اپریل کے آس پاس۔ کیونکہ یہ ڈھاکہ سے بہت دُور تھا اور یہاں سڑک نہیں صرف دریا کا راستہ جاتا تھا اس لیئے ہم یہاں بعد میں پہنچے۔
میں نے اس ایکشن میں 6 پنجاب بٹالیئن کے ساتھھ بطور کمانڈو میجر حصہ لیا۔ اِس بٹالئین کے کمانڈنگ افسر تھے بریگیڈئیر عاطف ہاکی والے۔ باری سال ہم پہنچے تو وہاں بارش ہو گئ۔ میں نے تو کمانڈو ایکشن کے لئیے شہرکی دوسری جانب لینڈ کرنا تھا لیکن بارش کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اُڑا ہی نہیں۔ اس سےپہلے ہم پچھلی رات کو میجر نادر پرویز کے ساتھہ اپنی گن بوٹس روانہ کر چُکے تھے تاکہ وہ دوسری جانب ساحل پرکچھھ علاقہ قبضے میں لے لیں اور بٹالئین کے اُترنے کی جگہ بن جاۓ۔ بٹالیئن نے ایم آئ ایٹ ہیلی کاپڑوں میں جانا تھا۔ اب بارش کی وجہ سے پلان میں یہ تبدیلی کی گئ کہ مجھے بٹالیئن کا گائیِڈ بنا دیا گیا۔
اس دوران میجرنادر پرویز شہر کی دوسری جانِب پہنچ چکا تھا۔ میرا دوست ہونے کے ناطے اُس نے کہا تھا کہ مجھے بھی ساتھھ لے چلو اور ہم نے راتوں رات پلان بنا کر اُس کی بٹالیئن بھی بیچ میں ڈال لی۔ خیر وہ رات کو نکلا اور صبح وہاں پہنچ گیا۔ جب وہاں پہنچا تو وہاں کچھھ بھی نہیں تھا۔ اُس نے مجھے وائرلیس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں تو بارش کی وجہ سے پہنچ ہی نہ پایا تھا۔ سو وہ اپنے چالیس فوجیوں کے ساتھھ پہلے شہر کی ایک جانب گیا پھر دوسری جانب اور پھر شہر میں داخل ہو گیا اور شہر فتح ہو گیا۔
اُدھر ہم شام کو بٹالیئن لے کر دریا پر پہنچے اور باری سال پر حملے کی تیاریاں کرنے لگے۔ لیکن عاطف صاحب نے کہا کہ رات کو ناواقف جگہ پر حملہ نہیں کرنا چاہیئے، سو ہم نے رات وہیں گزاری۔ اس دوران اس پورے واقعے کا واحد حادثہ پیش آیا۔ ایک نیول افسر گن بوٹ پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ پاس کھڑے سٹیمر میں سے کسی نے گولی چلائ جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ اسی رات بذریعہ ہیلی کاپٹر اسے ڈھاکہ بھیج دیا گیا۔
اگلی صبح ہم حملہ کرنے گۓ۔ اب ہم مارچ کرتے ہوۓ شہر کی طرف جا رہے ہیں تو آگے سے نادر پرویزجیپ میں شہر سے بایر آ رہا ہے۔ ہم نے کہا ’تم کدھر؟! ہم تو ساری رات تمہارے لیئے فکر مند رہے ہیں اور تہمیں ڈھونڈتے رہے ہیں۔’ تو اس نے کہا ’میں نے تو آپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہر فتح کر لیا ہے۔’
اب یہ ایک انتہائ مضحکہ خیز ایکشن تھا جس میں ہم نے بٹالیئن کا حملہ کرنا تھا، اُدھر فضایہ کا حملہ بھی کروایا۔ دوہوائ جہاز آۓ، انھوں نے علاقے پر گولیاں بھی برسائیں تاکہ بٹالیئن کا را ستہ صاف ہو سکے۔ یہ ساری کاروائ ہوئ اور آگے کچھھ بھی نہیں تھا۔ شہر میں ہمارے اپنے ہی بندے بیٹھے ہوۓ تھے۔
لیکن ایک ہفتے بعد کلکتہ سے جو ٹائمز آف انڈیا آتا تھا اُس میں سُرخی تھی
“Three Pronged Attack on Barisal Repulsed”
یعنی باری سال پر فضایہ، بحریہ اور بّری فوج کے حملے کو ناکام بنا دِیا گیا۔ اس اخبار کو خبریں بنگالی فریڈم فائٹر دیتے تھے۔ اب آپ خود ہی سوچیں اگر کوئ ٹائمز آف انڈیا پڑھ کر تاریخ لکھے تو کیا ہو گا۔
یہ کہانی تو یہاں ختم ہو گئ لیکن وہ بٹالیئن وہیں رہی اور اس نے بہت زیادتیاں کیں۔ جب وہ اُس ضلع کا نظام چلا رہے تھے تواس وقت وہاں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرتھے، سیاہ و سفید کے مالک تھے، اس وقت زیادتیاں ہوئیں۔ مجھے کسی کا فون آیا کہ فلانہ بندہ سونے کی بھری پیٹی مغربی پاکستان لے کر جا رہا ہے، اُسے روکو۔ تو میں نے کہا کئ بندے پیٹیاں لے کر جا رہے ہیں، یہ میرا کام ہے کہ میں لوگوں کا سامان چیک کروں؟ اکثر افسر ایک دوسرے کا نام لگا دیتے تھے کہ فلاں افسر نے یہ زیادتی کی فلاں نے نے یہ کیا فلاں نے یہ لُوٹا۔
میں ایک پرانے اور ممتاز فوجی افسر کو ملا جو باری سال آپریشن میں میرے ساتھھ تھا۔ تو میں نے اسے بتایا کہ میری ایک انڈین تاریخ دان سے بنگلہ دیش کے بارے میں بات ہوئ تو میں نے اسے کہا کہ میں نے تو کوئ بنگالی نہیں مارا اور اگر کسی نے مارنے کی کوشش کی تومیں نے اس کو روکا۔ میری طرح اور بھی ہوں گے جنہوں نے روکا ہو گا۔ کیونکہ مرنے والوں کی تعداد کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تو میری بات سن کر وہ افسر بولا ’میں نے تو بہت مارے تھے’۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ اس بندے کو تو میں شریف آدمی سمجھتا تھا۔ اُس کو مارنے کی کوئ ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ باری سال آپریشن میں تو کوئ مزاحمت تھی ہی نہیں۔ ـ بعد میں یہ شخص پاکستان کی حکو مت میں منسٹر بھی رہا ـ
٭٭٭
25 مارچ کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا اور 10 اپریل کو میں ڈھاکہ میں لینڈ کیا۔ ڈھاکہ کے دونوں طرف دریا ہیں جن میں سے ایک کو میگھنا کہتے ہیں اور دُوسرے کو بُوڑھی گنگا۔ میگھنا کے اُوپر ایک بہت بڑا پُل تھا جو مزاحمت کاروں کے قبضے سے کمانڈوز نے کُچھھ ہی دِن پہلے چِِھینا تھا۔ سو جب میں وہاں پہنچا تو جوش و جزبہ کا ایک سماں تھا۔ ایک پُرجوش شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کمانڈوز نے تو کمال کر دِیا اور تم کِتنے خُوش قسمت ہو کہ اُسی بٹالئین میں جا رہے ہو۔ بس اُس کا یہ کہنا تھا اور میں ایک اور دُنیا میں داخل ہو گیا اور حقیقت سے میرا رشتھ کٹ گیا۔
جب بھی کوئ فوجی مشرقی پاکستان پہنچتتا، اس کو ایک فوٹو البم دکھائ جاتی جس میں مُکتی باہنی کے مظالم کی تصویریں ہوتیں۔ مثلا ایک تصویر میں مغربی پاکستانیوں کے خون سے ڈرم بھرا جا رہا تھا۔ اسی طرح مسخ شُدہ لاشوں کی تصویریں بھی تھیں۔ یہ واقعات چٹاگانگ میں آرمی کے پہنچنے سے پہلے ہوۓ۔ لیکن اِس کے باوجود کہ مجھے یہ البم دکھائ گئ میری ذہنی حالت ایسی نہ ہوئ کہ میں اندھا دھند بندے مارنے شروع کر دوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، اُن کو پرانا غصہ تھا جو اب باہر آیا ہے۔
یہاں سے کہانی 1947 کی طرح ہو جاتی ہے۔ جس وقت کنٹرول سارے ختم ہو جاتے ہیں تو بندے کے اندر دبے ہوۓ بہت پرانے خیالات باہر آ جاتے ہیں۔ کسی کے اندر جہاد کا جزبہ، کسی میں بغاوت کا، کسی میں کافروں کو مارنے کا۔ آپ ایک تصوراتی دنیا میں جینا شروع کر دیتے ہو۔ اور بندے نے تہزیبی طور پرجو صدیوں میں سیکھا ہوتا ہے، وہ اسے بھول جاتا ہے۔ اسکی سماجی اور ثقافتی جڑیں اُکھڑ جاتیں ہیں اور وہ انسان سے پھر حیوان بن جاتا ہے۔ اور وہ تمام دلخراش کام بہت آرام سے کر لیتا ہے۔
بنگالیوں میں اکٹھا ایکشن لینے کا سیاسی شعور تھا۔ کسی بھی واقعہ پر مشتعل ہو کر وہ ایک دم گروہ بنا لیتے اور اجتماعی ایکشن لیتے۔ ان کی یہ خصوصیت بھی کچھ حد تک ایسے پُرتشدد واقعات کی وجہ بنی۔ اِس کی ایک مثال میں بہت پرانے وقت کی دیتا ہوں جب میں ساٹھھ کے عشرے میں ڈھاکہ میں تھا۔ اُدھر میں نے دیکھا کہ اگر کسی بس والے کا ایکسیڈنٹ ہو جاۓ تو عام طور پر ڈرائیور مارا جاتا تھا۔ اُسے لوگ مار مار کر مار دیتے تھے۔ یہ ایک عام بات سمجھی جاتی تھی۔ میں ایک دفعھ بازار گیا تو دیکھا ایک ہجوُم اکٹھا ہؤا ہے۔ جب میں نزدیک گیا تو دیکھا ایک بندے کو مار رہے تھے۔ پتہ چلا کہ ایک ڈرائیور ہے جس کی بس کے نیچے ایک بندہ آ کر مر گیا ہے۔ میں وہاں کھڑا تھا تو ایک بندے نے بے دھیانی میں ،
یعنی بغیر دیکھے کہ میں کون ہوں، اپنی ٹوکری پکڑائ اور جا کر اس بندے کو دو چار لگائیں اور واپس آ کر اپنی ٹوکری لے کر چلا گیا۔ تو یہ جو بات ہے کہ اجتماعی ایکشن میں حصہ لینا، یہ ان میں بہت زیادہ تھی۔
روز صبح میرا سی او یعنی کمانڈنگ افسر بریفنگ لینے ہیڈکوارٹر جاتا تھا، اس وقت میں سیکنڈ اِن کمانڈ تھا۔ وہ بریفنگ لے کر آتا تھا کہ فلانی جگہ ہم نے اپنی فورس بھیجنی ہے، وہاں بہت مزاحمت ہو رہی ہے۔ سو 18 اپریل کو میرا پہلا ایکشن طے ہؤا فرید پور میں۔ یہ میری زندگی کا پہلا ایکشن تھا۔ جانے سے پہلے جب بریفنگ کا وقت آیا تو افسر نے ہدایات دیں کہ تم جاؤ اور ایک دفعہ ان کو ’تاؤنی چڑھاؤ’۔ جس طرح اس نے مجھے بریف کیا مجھے لگا کہ وہ کہ رہا ہے کہ جا کر بندوں کو مارو۔ تو میں نے کہا سر تاؤنی کس طرح چڑھاؤں۔ ہاں اگر کسی نے مجھھ پر حملہ کیا تو میں جوابی گولی چلاؤں گا، لیکن ایسے ہی بلا وجہ بندوں کو مارنا شروع کر دوں؟ یہ مجھھ سے نہیں ہو گا۔ سو میں نے صاف صاف اُس کو اپنے تحفظات بتا دیئے۔
بریفنگ افسر بولا ’سُنو نادر، ہم نے اِس مسلۓ کی جڑ ڈھونڈ لی ہے اور وہ ہے ’ہندُو’۔ اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہِندُوؤں کو مارا جاۓ۔ اگر ہِندُوؤں کو ختم کر دِیا جاۓ تو یہ پرابلم ہمیشہ کے لیئے ختم ہو جاۓ گی۔’
میں نے کہا ’سر، ناٹ می۔ میں کسی نہتے سویلین کو نہیں ماروُں گا چاہے وہ ہندُو ہو، سِکھھ ہو یا عیسائ ہو۔ سب لوگ ملک کے برابر شہری ہیں۔’
اُس نے کہا ’بات سنو، تم مغربی پاکستان سے آۓ ہو، میں تمہارے خیالات سمجھتا ہوں لیکن حقیقت اس طرح نہیں ہے۔ اِن لوگوں نے ہماری چھاؤنیؤں کو گھیرا ڈالا، ہمارا پانی بند کیئے رکھا۔ اس مسلۓ کو ختم کرنے کے لیئے ہمیں سخت اقدام لینے ہوں گے، وی ہیو ٹُو کم ڈاؤن ہارڈ! اور فیصلہ یہ ہوا ہے کہ ہم ہندوُؤں کو ماریں گے۔ ’
میں نے کہا ’سر، مجھھ سے ایسی کوئ توقع نہ رکھیں۔ مجھے جہاں کہیں گے چلا جاؤں گا، جہاں پھینکیں گے چلا جاؤں گا لیکن ڈونٹ ایکسپیکٹ می ٹُو ڈُو دیٹ۔’
آپ سوچئیے کہ کتنی لاپرواہی سے یہ سب کچھھ ہو رہا تھا۔ اب ہِندُوؤں کو مارنے کی پالیسی کے بہت دُور رس نتائج برآمد ہوۓ۔ کچھھ مارے گۓ، کچھھ کے گھر لُوٹے گۓ لیکن زیادہ تر ہجرت کر کے انڈیا چلے گۓ۔ اِن مہاجروں کی تعداد تقریبا ایک کروڑ تھی، اور اِنہیں کی بنیاد پر اِنڈیا کوعالمی سطح پر بنگلہ دیش کا مقدمہ بنانے کا موقع مِل گیا۔ اب تو حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں بھی آ گیا ہے کہ ہندُوؤں کو مارنے کی سرکاری پالیسی بنائ گئ تھی۔ یہ فیصلہ کس سطح پر ہؤا، کس نے کیا، اس کے بارے میں کچھھ پتہ نہیں۔
90 کی دہائ کی بات ہے، ابھی حموُدالرحمٰن کمیشن رپورٹ نہیں آئ تھی، کہ میں نے ایک جرنیل صاحب سے کہا کہ ہندوُؤں کو مارنے والا فیصلہ بہت غلط تھا۔ تو وہ کہنے لگا کہ ایسا تو کوئ آرڈر نہیں دِیا گیا۔ میں نے کہا سر آپ اِنسپکشن کے لیئے بنگال آۓ تھے تو میں بھی وہاں کھڑا تھا۔ آپ فوجیوں سے ہاتھھ مِلا رہے تھے تو ایک سپاہی سے آپ نے پُوچھا تھا ’کِتنا ہِندُو مارا ہے؟’ یہ مُجھھ گناہ گار نے خُود سُنا ہے۔ لیکِن وہ نہیں مانا۔
آج تک ہمارے مغربی پاکستانی فوجیوں کی یہی ذہنیت ہے۔ اُن کے لیئے ہندوُؤں کو مارنا حلال ہے۔ اور ہندوُؤں کے لئیے بھی مسلمانوں کے لییے ایسے ہی جذبات ہیں۔ یہی چیز پارٹیشن میں سامنے آئ اور جنگوں کے بعد ہماری نفسیات کا حصہ بن گئ۔
اب تو حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں بھی آ گیا ہے کہ ہم کو آرڈر دِیا گیا تھا کہ ہندُوؤں کو مارو۔ جب 90 لاکھھ ہندُو بھاگ کر گۓ تو وہ بڑی بڑی گاڑیاں دریا کے اِس پار ہی چھوڑ گۓ۔ میں پرانی ٹیوٹا چلاتا تھا تو میرے ڈرائیور نے کہا سر آپ کمانڈو ہیں، آپ کوئ مرسیڈیز وغیرہ لے لیں۔ میں نے کہا نہیں میرے لیئے یہی گاڑی ٹھیک ہے۔ اسی طرح ایک دفعہ سڑک پر جاتے ہوۓ میرے ڈرایئور نے ایک غریب آدمی کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا ’سر وہ ہندو جا رہا ہے’۔ جیسے شکار کے لیئے مُجھے کوئ نایاب پرندہ دِکھا رہا ہو۔ میں نے اسے گالی نکال کر کہا ’چلو گاڑی آگے لے چلو’۔
فوج میں ایک روائیت ہے کہ تربئیتی مشقوں کے دوران مورچوں میں چند فوجی بہروُپیئے ہندوُؤں اور سِکھوں کا میک اپ کر کے بٹھا دئیے جاتے ہیں۔ مثلا اگر دریا پار کرنے کی مشق ہے تو دریا پار کر کے پاکستانی فوجی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوۓ اِن مورچوں پر دھاوا بولتے ہیں تو یہ اداکار ست سری اکال اور ہاۓ رام چلاتے ہوۓ اپنی دھوتیاں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک جرنیل نے غلطی سے کہ دِیا یہ روائیت اب بند کر دینی چاہیئے کیونکہ ہم نے دو جنگوں میں دیکھھ لیا ہے کہ ہِندُو بھی اُتنا ہی اچھا لڑتے ہیں جِتنا کے ہم۔ اُس جرنیل کی ترّقی روک دی گئ۔
فوجیوں کے ہِندُوؤں بارے تعصبات ایک واقعے سے واضح ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک بریگیڈئیر نے مجھھ سے کہا کہ ہندُوؤں سے ہاتھھ نہیں ملانا چاہیئے۔ میں نے کہا میں تو اُن کے ساتھھ کھاتا پیتا ہوُں۔ وہ بولا اُن سے تو بُو آتی ہے۔ میں نے جواب دِیا کہ نہانا تو اُن کی عبادت کا حصہ ہے، وہ تو شاید ہم سی بھی زیادہ نہاتے ہیں۔ پِھر میں نے اُس سے پُوچھا کہ کیا تُم کبھی کسی ہندُو سے مِلے ہو تو وہ بولا ’نہیں!’۔
٭٭٭
ہم نے تووہاں اور طرح کے تماشے دیکھے ـ ایک رات کو فائر کی آواز آئی ۔ ٹھاہ کرکے ـ ہم دوڑ کر باہر گئے اور صاحب سے پوچھا کہ کیا ہوا ـ اس نے کہا کچھـ نہیں ـ میں نے یہاں کچھـ ہل جل دیکھی ہے اس لئے فائر کیا ہے ـ اُدھر دیکھا تو سویپر جو لیٹرین صاف کرنے آیا تھا صاحب کے بعد ۔ جب وہ کھڑکا وغیرہ تو اُس نے گولی ماری تو وہ خاکروب مر گیا، جسے وہ پاکستان سے ساتھـ لے کر گئے تھے ـ
اتنا تو میں نے بھی دیکھا ہے۔ ہم شہر جا رہے تھےـ شہر کوئی چار پانچ میل دور تھا فیری سائیڈ سے۔ میں چونکہ ڈھاکہ رہ چکا تھا اور دیکھـ چکا تھا کہ کافی لاًوارث کاریں ہیں ۔
بنگال میں جو مزاحمت تھی وہ تصور کی جاتی تھی ۔ بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا تھا۔ مثلا کہ کچھہ لوگ ادھر رات کو بتیوں کے ساتھـ اشارے کرتے ہیں، ہندوستان کے ہوائی جہازوں کو گائیڈ کرتے ہیں ـ نہ وہاں ہندوستان کا جہاز آتا تھا اور نہ ہی کوئی کسی کو گائیڈ کرتا تھا ۔یہ 1965 ء سے چلاً آرہا ہے جب ہم ساری رات پرچھائیوں کے پیچھے بھاگتے رہتے تھے ۔
65 ء کی کہانی سُن لیں۔ ـ
رپورٹ آئ کہ فلانی جگہ پر کوئ بتی کا سگنل کر رہا ہے۔ رات کو بیڑی پر چڑھ کر بڑا لمبا کمانڈو آپریشن کرکے اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں سے بتی کا سگنل آرہا تھا ۔ اُدھر واقعی بتی جل بجھـ رہی تھی ۔ میں نے سوچا اب تو چور پکڑا گیاـ قریب جانے پرایک بندہ ملا جو فوج کو گاچیاں سپلاًئی کرتا تھا، چھوٹا دوکاندار تھا۔ اس نے کہا کہ صاحب میں تو فوج کا سپلاًئر ہوں اور یہ میرا گھر ہے ۔ میں نے کہا اِدھر پیچھے لاًئٹ جل بجھـ رہی ہے۔ اس نے کہا کہ آپ دیکھـ لیں جہاں لاًئٹ نظر آ رہی ہے ۔ ادھر میں گیا وہاں ایک بُوڑھی مائی ایک بیمار بچی کے پاس لاًلٹین جلاً کر بیٹھی تھی۔ ۔ ہوا کے ساتھـ دروازہ بند ہوتا تھا کھلتا تھا بند ہوتا تھا کھلتا تھا ۔
دور سے یہ سگنل معلوم ہوتا تھا ۔ وہ مائی بیچاری دنیا سے دور بے خبر بیٹھی تھی کہ ہم اِتنا لمبا سفر کرکے اُس تک کیوں آۓ ہیں۔
٭٭٭
چھھ جُون کو میں بلونیہ پہنچا جو چٹاگانگ کے شمال میں ہے۔ یہاں زمین کا ایک تکون حصہ انڈین بارڈر کے اٹھارہ میل اندر تک جاتا ہے، یعنی مشرقی پاکستان کی زمین جس کے تین طرف انڈیا ہے۔ یہاں ایسٹ پاکستان رجمنٹ کے باغی فوجیوں نے ایک بٹالیئن لگائ ہوئ تھی۔ پاکستان فوج نے جب حملہ کیا تو اُن آس پاس کے پہاڑوں سے انڈین آرٹلری نے گولا باری اور ہمارے پچیس تیس فوجی مارے گۓ۔
سو جب مجھے بلایا گیا تو بلونیہ پر تین بٹالیئن کے ساتھھ حملے کا منصوبہ تھا جس میں مجھے دشمن کے مورچوں کے پیچھے اتارے جانا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے رات کو ہی بھیج دیں تاکہ میں تاریکی کا فائدہ اُٹھا سکوں۔ رات کو ہم گئے، اِدھر اُدھر فائرکرتے رہے، ہم پر بھی فائر ہوۓ۔ اس کنفیوُژن میں وہ سارا علاقہ خالی کر کے چلے گۓ۔ صبح جب ہماری فوج کا حملہ ہؤا تو سارا علاقہ خالی تھا۔ اور میں اپنے چالیس فوجیوں کے ساتھھ ایک خراش بھی لگے بغیر واپس آ گیا۔
میرا کمانڈنگ افسر یہ ایکشن کرنے سے انکار کر چُکا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جہاں اتنے بندے مرے ہیں وہاں اور بندے بھیجنا خُودکُشی کے مترادف ہے۔ لیکن مجھے پتہ تھا کہ یہ دلدلی علاقہ ہے اور وقت آنے پر مجھے مدد دے سکتا ہے۔ اورساتھ ساتھ مجھے یہ بھی یقین تھا کہ اگر میں دشمن کے پیچھے پہنچ جاؤں تو وہ لوگ اپنے ہی عقب میں تو فائر نہیں کریں گے۔ سو میرا منصوبہ تھا کہ اُن کے بیچ میں لینڈ کر کے کنفیوژن پھیلاؤں اور راتوں رات واپس نکل آؤں۔ میرا یہ ایکشن کامیاب ہؤا اور میرے سی او کومعطل کر دِیا گیا کہ اُس نے ایکشن سی اِنکار کیوں کیا۔ میں یکدم ہیرو بن گیا اور مجھے یہ اطلاع دی گئ کہ آج سے میں بٹالیئن کمانڈ کروں گا۔
یہ بہت بڑی بات تھی کہ ایک میجر بٹالیئن کمانڈ کر رہا ہے۔ اب میں براہِ راست نیازی صاحب سے آرڈر لیتا اور روز ڈھاکہ میں موجُود جرنیلوں سے ملاقات کرتا تھا۔ زیادہ آپریشن جرنل قاضی کے علاقے میں ہوۓ اور میں اُن کے ساتھ اکثر ہوائ جہاز کے ذریعے مختلف مقامات پر جاتا۔ اب میں پی آئ اے کے ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار بھی رکھتا تھا کیونکہ ہم ہر فلائٹ پر ائیر گارڈ فراہم کر رہے تھے جو کہ اکثر کمانڈو ہوتے تھے۔ سو اس طرح میں نے جُون، جولائ، اگست تک وہ بٹالیئن کمانڈ کی اور ایک نوجوان میجر ہوتے ہوۓ مجھے بہت زیادہ اہمیت مِل رہی تھی۔
کِسی نے یہ مشورہ دِیا کہ اِنڈین بارڈر کے پار آپریشن کرواۓ جائیں تو میں نے سویلین رضا کار لے کر بھجنا شروع کر دیئے۔ اب آپ اِس کو میرا کارنامہ سمجھھ لیں یا بیوقوفی، کیونکہ میں احمقوں کی جنت میں رہ رہا تھا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ 1971 کی پُوری جنگ میں اکیلا میں ہی تھا جس نے بارڈر پار ایکشن منظم کئیے۔
بڑا آسان کام تھا۔ آپ دو تین بندے بھیجتے تھے اور کہتے تھے ادھر جا کر اس طرح ریلوے لائن پر لگا دو اور سوئچ کھینچ کر واپس آ جاؤ۔ باقی کام خود ہی ہو جاۓ گا۔ یہ کام کسی کو بھی سکھایا جا سکتا ہے۔
میں شام کو ایک دن سِلہٹ گیا۔ وہاں قریب ہی بارڈر کے اُس طرف ریلوے لائن گزرتی ہے کِشن گنج کی۔ میں نے دو تین رضاکار تیار کیئے جنہوں نے دھوتیاں پہنی ہوئ تھیں۔ اُن کو یہ تربیت دی کہ ٹرین کے پہیوں کی جوڑی میں بیس فُٹ کا فاصلہ ہوتا ہے، اگر پٹڑی پر دو چارج اِتنے وقفے کی بعد لگاۓ جائیں، تو پہئیہ گزرنے سے 20 فٹ کا ٹکڑا اُڑ جاۓ گا اور انجن پٹڑی سے اتر جاۓ گا۔ تو میں اُن کو یہ سبق پڑھا کر واپس ڈھاکہ آ گیا۔ رات کو گیارہ بجے بی بی سی پر خبریں سنیں کہ پاکستانی کمانڈوز نے کِشن گنج میں ایکشن کیا ہے جس میں 56 بندے ہلاک ہو گۓ۔
سو مُجھے رات کو گورنر ہاؤس بُلایا گیا اور کہا گیا کہ تم نے تو کمال کر دیا ہے، اتنی بڑی سبوتاژ کی ہے انڈین سرحد کے اندر۔ ہمارے مخالف تو اپنی خبریں لگواتے رہتے ہیں اور ہمیں دیکھو ہم کچھھ کرتے ہی نہیں۔ اُس کے بعد میجر سالک، جو بعد میں برگیڈیر سالک ہوا، کو میری ساتھھ اٹیچ کر دِیا گیا تاکہ ہم جو سبوتاژ کریں اس کی رپورٹ اخبار میں چھپے اور لوگوں کے حوصلے برقرار رہیں۔ پاکستان آبزرور میں ایسی دو چار رپورٹیں شائع بھی ہوئیں جو میں نے میجر سالک کو دِیں تھیں۔ اس پوری کاروائ نے میرا نشہ اور بڑھا دِیا۔ اب میں روزانہ برِیفنگ کر رہا ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ اگر کسی کو مشرقی پاکستان کی کوئ جغرافیائ، موسمی یا علاقائ معلومات درکار ہوتیں تو میں ان کو بھی مشورہ دیتا۔
میں ہفتے میں کم از کم دو دفعہ بنگال میں کہیں نہ کہیں جاتا تھا۔ جہاں بھی ہمارے کمانڈو کوئ آپریشن کرنا چاہتے تھے یا کوئ اور مسلہء ہوتا۔ سو اس طرح میں پورے بنگال میں پھرا۔ اسی طرح اپریل یا مئ میں سنتہار نام جگہ پر گیا تو بتایا گیا کہ یہاں ریلوے کالونی پر بنگالیوں نے حملہ کر کے تمام بہاریوں کو قتل کر دِیا ہے۔ اب اِس طرح کا واقعہ ہؤا ہو تو اُس کے کوئ آثار نظر آنے چاہیئں لیکن میں تو کچھ دِن بعد ہی پہنچا تھا اور مجھے تو کوئ نام نشان تک نظر نہیں آیا۔ سو یہ بھی ہو رہا تھا کہ مجھے رپورٹیں مل رہی تھیں لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے کچھھ نہیں دیکھا تھا۔ تو ایک طرح سے یہ بھی میری احمقوں کی جنت کو بڑھاوا دے رہا تھا۔
ڈھاکہ کی سوشل لائف کا سُن لیں۔ پی اے ایف میس تھی جہاں شام کو ہم چلے جاتے تھے۔ قریب ہی پی آئ اے والوں کی میس بھی تھی جہاں میں نے کچھھ دِنوں بعد جانا شروع کر دِیا۔ مغربی پاکستان کے پائیلٹ شہر کی بجاۓ ہمارے ساتھھ چھاؤنی میں ہی رہتے تھے۔ پھر میں نے شہر بھی جانا شروع کر دِیا کیونکہ میرے بہنوئ ریاض سِپرا کا تبادلہ بطور ایس ایس پی ڈھاکہ ہو چکا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے ڈھاکہ کلب بھی جانا شروع کر دِیا۔ بس پھر روز کا معمول بن گیا۔ پی اے ایف میس چلے گۓ، پی آئ اے میس چلے گۓ، ڈھاکہ کلب چلے گۓ،رات کو چائینِز کھانا کھایا اور سو گۓ۔ ایک لیول پر زندگی اسی طرح چل رہی تھی کہ آپ کو کوئ پرواہ نہیں کہ بایر کیا ہو رہا ہے۔
میں ایک سُن حالت میں تھا۔ شام کو ڈھاکہ کلب جانا، وہاں بنگالیوں کے ساتھ ڈرِنک کرنا ۔ دِن کو کسی دوسرے شہر جا کر کوئ مشورہ وغیرہ دینا اور شام کو لوٹ آنا۔ میں ایک بہت اہم شخصیت بن گیا لیکن حقیقت سے میرا رشتہ کٹ چکا تھا اور میں اپنی ایک خیالی دنیا میں بس رہا تھا۔ اس دوران ایک جوان میجرجو بنگال جانے سے پہلے کچھ کچھ اندھا تھا اب مکمل طور پر اندھا ہو گیا۔
مثلاً ڈھاکہ اِنٹرکانٹینینٹل ہم جاتے تھے توہم نے اصرار کیا کہ یہاںشام کو ڈانس میوزِک بجتا تھا تو اب بھی بجانا چاہیئے۔ تو بینڈ آ گیا اور ڈانس میوزِک بجنا شروع ہو گیا۔ کچھ دِنوں کے بعد ڈانس بھی شروع ہو گیا۔ اِنٹرکونٹینینٹل ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا امیر لوگوں کا، جِن کی زندگی روز مرہ کے معمول پر چل رہی تھی۔ اُنھوں نے وہاں بال رُوم ڈانسنگ شروع کر دی۔ جب میں نے وہاں جانا توبینڈ نے میوزک روک کر اعلان کرنا ’گُڈ ایوننگ میجر نادر!!’ اور پھر میوزک شروع کر دینا۔ سو میں ہر جگہ جانا پہچانا جاتا تھا۔ اس طرح میری احمقوں کی جنت کی بنیاد پڑی، اور ساتھ ساتھ میرے پاگل پن کی بھی۔
٭٭٭
سوال یہ کیا صورتحال اس کی مختلف ہو سکتی تھی ؟ کیا مشرقی پاکستان کو بچایا جا سکتا تھا ؟ ہاں ـ بالکل ۔ اگر ساراایکشن اپریل میں بند کر دیا جاتا جو ایک مہینے پہلے مارچ میں شروع کیا تھا اور یہ لوگ بندے کے پُتر بن جاتے اور کہتے ’’ بس کرو ،، ۔ تو ایک موقع تھا ۔ عوامی لیگ کے ابھی بھی بہت سے ایم این اے تھے جن کو منایا جاسکتا تھا کہ بھئی کہا سُنا معاف کرو اور واپس آجاؤ ۔ لیکن یہ صورتحال تو بدستور چلتی ہی گئی حتٰی کہ دسمبر آگیا ۔
کسی بھی آرمی کا جب یہ رول بن جائے کہ لوگوں کی زندگی اور موت اس کے اختیار میں ہو اور اپنی من مانی کرنے کی آزادی ہو ۔ تو آہستہ آہستہ اخلاقی طور پر وہ فوج تباہ ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ ۔ یہ تو ہمیں اُس وقت ہی نظر آرہا تھا کہ جنگ ہوئی تو یہ لوگ نہیں لڑ سکتے ۔
’’ They are not in the state of mind،
فوج پورے علاقے میں چھوٹی چھوٹی دستوں میں بٹی ہوئی تھی ۔ عام خیال یہ تھا کہ کسی ایک جگہ پر قبضہ کرکے اعلان کر دیا جائے کہ یہ بنگلہ دیش ہے ۔ آزادی کا اعلان کیا جائے گا اور مساوی حکومت بنائی جائے گی ۔ یہ بات تو کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا کہ اگر حملہ ہوا تو کیا کریں گے ۔
نیازی صاحب نے کوئی ڈپلوئمینٹ نہیں کی، کُچھہ روکنے کی کوشش نہیں کی حا لانکہ اُدھر اتنے بڑے بڑے دریا ہیں کہ اگر کوئی کسی کو روکنا چاہے تو بہت کچھـ ہو سکتا ہے ۔
لیکن آپ دیکھیں کہ وہاں ہمارے کسی بندے نے مزاحمت نہیں کی اور نہ ہی بھاگنے کی کوشش کی ۔ سوائے دو ہیلی کاپٹروں کے جو اُڑ کر برما پہنچ گئے اور پھر براستہ رنگون مغربی پاکستان واپس آئے ۔ ان ہیلی کاپٹروں میں کچھـ زخمی کچھـ نرسیں اور چند آرمی اےوی ایشن کے بندے تھے جن میں ایک جرنیل صاحب بھی شامل تھے ۔ جو بظاہر زخمی تھے لیکن لوگوں نے ان پر بہت لعن طعن بھی کی ۔ کیونکہ یہ بات علم میں آئی کہ کسی شخص کو ہیلی کاپٹر سے اُتار کر جرنیل صاحب کو سوار کیا گیا تھا ۔ ان کے علاوہ کوئی اور وہاں سے نہیں بھاگا اور نہ ہی کسی نے مزاحمت کی ۔
ایک طرف یہ کہانی ہے اور دوسری طرف آپ یقین کریں کہ 1984 ء میں فلپائن میں آخری جاپانی فوجی نے ہتھیار ڈالے یعنی جنگ ختم ہونے کے چالیس سال بعد ۔ اس کا دماغی توازن بگڑ چکا تھا ۔ لیکن اس کی بندوق ابھی بھی اس کے پاس تھی ۔ جب اس سے ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا تو اس نے کہا کہ میں تو اپنے بادشاہ کے لیے لڑ رہا ہوں اور صرف اُسی کے آرڈر پر ہتھیار ڈالوں گا۔ پھر جاپان کے بادشاہ نے ایک ایلچی کے ہاتھـ ایک خصوصی حکم نامہ بھیجا تو پھر اس نے ہتھیار ڈالے ۔
اُن کو دیکھو اور ہمارے بندے دیکھو ۔ اب یہ قصہ سنیں ۔
ہماری ڈویثرن بائی پاس کرگئی ہندوستان آرمی ۔ ان جرنیل صاحب کے پاس تین بٹالیئن تھیں ۔ اب تین بٹالیئن بڑی طاقت ہوتی ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی ایکشن میں حصہ لیا تھا ۔ اس لیے ان کو خراش تک بھی نہیں آئی تھی ۔ اب ڈھاکہ پر انڈین آرمی کا قبضہ ہو چکا تھا اور اس کے ایک دو دن بعد تک یہ ڈویثرن وہاں کی وہاں بیٹھی رہی ۔ نہ تو انہوں نے کسی طرف نکلنے کی کوشش کی اور نہ ہی ہندوستان آرمی کے پیچھے سے آکر ایکشن کا منصوبہ بنایا ۔ اس جرنیل نے ڈھاکہ فون کیا اور پوچھا۔ ’’ ہم نے کس کے پاس ہتھیار ڈالنے ہیں،،۔ جیسے کوئی چیز منتقل کی جا رہی ہو کہ بھائی ہم نے کس کو ہینڈ اوور کرنا ہے۔
لیکن ساتھـ یہ بھی ہے کہ میجر اکرم جیسے فوجیوں نے مزاحمت کی بھی اُن کی بٹالیئن بوگرہ کے مقام پر بہت دلیری سے لڑی اور میجر اکرم کو نشانِ حیدر ملا ۔ ان کی تعریف انڈین آرمی نے بھی کی ۔ لیکن یہ چند اکا دُکا واقعات ہیں ورنہ نہ تو نیازی صاحب نے دفاع کا کوئی انتظام تیا تھا نہ ہی کوئی پلاننگ ۔
٭٭٭
وہاں ہندُوؤں کی جتنی بھی پراپرٹی اوردوکانیں تھیں وہ لُوٹی گئی تھیں۔ پِھر یہ سِلسلہ شروع ہوا کہ مقامی مسلم لیگ یا جماعتِ اسلامی والے ہمارے پاس آ جاتے اور کہتے کہ فلاں پراپرٹی ہمیں الاٹ کر دو۔
یہ بھی ایک قدرتی چیز ہے کہ جب فوج کا کسی جگہ پر قبضہ ہو جائے تو کوئی اس کے کیلیبریٹر بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جہاں کوئی خاص مزاحمت نہ ہو۔ مثلاً جماعتِ اسلامی والے میرے پا س آتے تھے چوہدری رحمت الٰہی ، پروفیسر غلام اعظم وغیرہ ۔ وہ مجھے سویلین رضاکار دیتے تھے جِن سے میں نے کئی سبوتاژ آپریشن انڈین بارڈر کے پار کروائے۔ لیکن رضاکار دینے کے بعد ان کی بھی کوئی نہ کوئی سفارش ہوتی تھی کہ فلانی جگہ پر فلانے بندے کو دوکان ہمیں دے دی جائے یا ہمارے فلاں بندے کا خیال رکھا جاۓ۔
بنگلہ دیش میں آج تک الشمس البدر والوں کو بُرا ہی سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان والے اُنہیں ہیرو ہی سمجھتے ہیں ۔ جماعت اسلامی والے اُن کی بہادریوں کی کہانیاں لکھتے ہیں۔
ایسے بھی لیڈر تھے جو لوگوں میں مقبول تھے، مثلاً فضل القادر چوہدری ، مولانہ فرید احمد وغیرہ۔ ان کا تعلق کاکسز بازار سے تھا اور ان کی پارٹی تھی تحریکِ اسلام یا اسی طرح کچھـ نام تھا ۔ یہ لوگ ہمارے یونٹوں میں آتے تھے اور کہتے تھے کہ فلانے بندے کو مار دو یا فلانے بندے کے ساتھ یہ کر دو وہ کر دو۔
ایک بہت آگے کی آپ کو بات سُناتا ہوں ۔ آسام سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیں ڈاکٹر یاسمین سیکھیا جو امریکہ میں ہندوستان کی تاریخ پڑھا رہی ہیں۔ حال ہی میں اس نے ایک سال ریسرچ کی ہے بنگلہ دیش میں 71 ء کی جنگ کے بارے میں ۔ پہلے اُس کی ریسرچ صرف عورتوں کے تجربات پر تھی کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ 71ء میں دس لاکھھ عورتوں کو ریپ کیا گیا اور اتنی زیادہ عورتیں حاملہ تھیں کہ ایک بہت بڑا مسلہ کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکِن بہت کوشش کے باوجود اُدھر اُس کو ایسی کوئ عورت نہ مِل سکی۔
آخر وہ ہائی کورٹ کے اُس جج کو مِلی جس کو اِن عورتوں کی بحالی کا اِنچارج بنایا گیا تھا ۔ اس نے کہا کہ ہم پالیسی کے طور پر کِسی کا نام نہیں بتاتے تا کہ اُن خواتین کو کوئی پرابلم نہ ہو۔
اب یہ بات ہے تقریباً سن 2002 کی، یعنی اس واقعے کو تیِس سال سے زیادہ کا عرصہ گُزر چکا تھا اور اُن عورتوں کو ڈھونڈنا بڑا مشکل تھا ۔ لیکن پھر ڈاکٹر یاسمین نے کہا کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا سانحہ ہوا ہو جس کو بین الااقوامی سطح پر مانا جاتا ہواور اُس کے بارے میں بات کرنے والا کوئ بھی نہ ہو؟ کوئی تو ایسی لڑکی ہو گی جو اس وقت بڑھاپے کے قریب ہو گی جو اپنا تجربہ بتا سکے؟
آخر کار اس نے ایک عورت کو ڈھونڈ ہی لیا جو اب جِسم فروشی کر رہی تھی۔ اُس نے کہا ’ہاں، میری عزت لُوٹی گئ تھی’۔ ڈاکٹر یاسمین نہ پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ کوئ عورت مِلتی ہی نہیں تو اُس نے جواب دیا کہ’ دو چار سے تو میں تمہیں مِلا دُوں گی’۔ پھر ڈاکٹر یاسمین نے زور دے کر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ کوئ اس واقعہ کے بارے میں بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتا تواُس نے کہا ’کوئ بات کس طرح کرے۔ یہاں جو آجکل ایم این اے ہے وہی تواُن فوجیوں کو اپنے ساتھـ لایا تھا جنہوں نے میرے ساتھ یہ کِیا، ۔
وہ شخص اُس وقت فوج کا کیبلیٹر تھا ۔ سو یہ ہے ٹریجڈی ہے کہ لیڈر کس طرح ان کی شکلیں بدلتے ہیں کس طرح وہ لڑتے ہیں ۔
٭٭٭
اس دوران میں کمیلاً گیا اپنے بیٹ مین کی تلاًش میں ـ وہ ایک بنگالی سپاہی تھا جو اس بٹالیئن میں تھا ـ عزیز الحق اس کا نام تھا ـ وہاں جا کر میں نے عزیز الحق کا پوچھا تومغربی پاکستان کے سپاہیوں نے مجھے بتایا کہ عزیز الحق کو مار دیا گیا ہے ـ میں نے انھیں کہا کہ ظالمو تم نے اپنا بندہ مار دیا ـ کس طرح مارا مجھے بتاؤ ـ انہوں نے بتایا کہ پہلے ہم نے اسے پکڑ کر کوارٹر گارڈ میں بند کر دیا تھا ـ اب جب کہ وہ کسٹڈی میں تھا اس کے فوجی ساتھی نے اس کو کسٹڈی میں مار دیا ـ میں نے کہا کہ یہ تو بڑا ظلم کیا تم لوگو ں نے ـ
پھر میں وہ جگہ دیکھنے گیا جہاں وہ قید تھا ـ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ وہاں دو لوگ اور قید ہیں ـ ان کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی ـ اب جون کا مہیہ آگیا تھا اور ان کو 26 مارچ کا قید کیا ہوا تھا ـ ان کے باقی تمام ساتھی مارے گئے تھے ـ صرف یہ دو ہی بچے تھے جو ان مرے ہوؤں کے بیچ میں پڑے رہے ـ میں نے پوچھا کہ یہ کیوں قید ہیں ـ انہوں نے کہا کہ صاحب یہ گڑ بڑ کریں گے ـ میں نے ان دونوں کو باہر نکلوایا ان کی شیو وغیرہ کروائی ـ ان کو کہا کہ نہاؤ دھو ـآرڈر دِیا کہ ان کو روٹی کھلاًو اور ان کی بندوقیں دے دوـ میرے سپاہی کہنے لگے کہ سر یہ تو بڑی زیادتی ہے ـ میں نے کہا کہ یہ اپنے سپاہی ہیں ـ جتنا تم کو حق ہے اتنا ہی ان کو حق ہے ـ تم ان کو ان کی بندوقیں دے دو ـ سپاہیوں نے کہا کہ سر یہ گڑ بڑ کریں گے ـ میں نے کہا کہ اگر یہ گڑ بڑ کریں تو تم اس کے حقدار ہوگے ـ
پھر میں نے ان دونوں کو کہا کہ تم لوگ اب آزاد ہو ـ ان میں سے ایک ڈھاکہ کے پاس گاؤں کا رہنے والاً تھا ـ میں نے کہا کہ اب حالاًت ٹھیک ہیں تمھارے گاؤں کے، میں وہاں سے ہی آیا ہوں ـ انہوں نے مجھـ سے دس دن کی چھٹی مانگی تو میرے سپاہی نے کہا کہ سر اگر آپ نے ان کو چھٹی دے دی تو یہ لوگ واپس نہیں آئیں گے ـ تو میں نے کہا کہ اگر نہیں آئیں گے تو مرضی ان کی ـ ہم نے ان کا کیا کرنا ہے اور اگر آگئے تو تمھارے ساتھـ رہیں گے ـ تم ان کو بندوقیں دے دینا ـ وہ گئے اور ٹھیک دس دن بعد وہ واپس آگئے ـ
اس وقت فوج بالاًدستی حاصل کرچکی تھی ـ وہ دونوں اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے فاتح فوج کے ساتھـ مل گئےـ اب ان کا بھی دل کرتا تھا کہ وہ بھی آرمی کے کمانڈو بنیں ـ وردی پہنیں ـ وِنگ لگایا ہو ـ آرمی کا حصہ بن جائیں ـ اس کے بعد میری ان سے کوئی ملاًقات نہیں ہوئی ـ
77 ء میں میں لاًہور چھاؤنی میں کسی بندے کے گھر کھانا کھا رہا تھا ـ اندر سے ایک آدمی کھانا لے کر نکلاً ـ مجھے وہ بڑا جانا سا چہرہ لگا ـ میں نے کہا "کما ل ا لد ین ٰ تم کدھر؟" ـ اس نے کہا صاحب جدھر آپ نے پھنسایا تھا وہیں ہیں ـ میں نے پوچھا کیا ہوا ـ اس نے کہا کہ ہم ساتھـ ہی رہے بٹالیئن کے ـ پھر ہم قید ہوگئے ـ پھر واپس اِدھر مغربی پاکستان آئے تو انہوں نے ہمیں فوج سے نکال دیا ـ اب اُدھر جا نہیں سکتے ـ اب یہاں کرنل صاحب کے گھر کُوک کا کام کرتا ہوں ـ پھر میں نے کرنل صاحب سے بات کی اس کا پاسپورٹ بنوا کر اُسے بنگال بھجوا دیا ـ اب آپ یہ دیکھیں کہ کمال الدین ایک کمانڈو تھا اور وہ باورچی بن گیا ـ حا لاً نکہ وہ ہمارے ساتھـ جنگ میں لڑا لیکن اسے پھر بھی کسی نے قبول نہیں کیا ـ
آرمی نے اپنے بنگالی سولجرز کو کہیں جگہ پر قید کر دیا ، کہیں پر مار دیا ، کئی سولجرز بھاگ گئے ، اور کئی جگہ پر سولجرز نے آرمی کو مار دیا ـ اپنے سئنیرز کو مار دیا ان کے بچوں کو مار دیا ـ
شمالی بنگال جب میں پہنچا تو مجھے ٹھاکر گنج کے مختلف فوجی ایکشنوں کی کہانی سنائی گئی ـ یہ ایسٹ پاکستان رائفلز کا علاقہ تھا۔ مجھے رات کو ایک گھر میں ٹھرایا ـ جب رات کو میرے لیے کھانا لایا تو مجھے بتایا گیا کہ اس گھر میں مغربی پاکستانی میجر محمد حسین رہتے تھے ـ میجر محمدحسین کو ان کی فیملی کے اُن کے بنگالی سولجرز نے مار دیا تھا ـ ان کے خاندان کی صرف ایک بچی بچی اور میں اس بچی سے ڈھاکہ میں ملا تھا ـ بڑا ظلم ہوا تھا وہ بچی بول نہیں سکتی تھی ـ
ـ میں انکے گھر میں ہی ٹھرا ہوا تھا ـ اب جب کہ مجھے یہ کہانی سنائ گئ تے مجھے جگہ جگہ اُس واقعے کے آثار دِکھائ دینے لگے۔ گھر میں کئی جگہ خون کے دھبے تھے ـ باتھـ روم میں گیا تو وہاں کھڑکیوں میں تکیے ٹُھسے ہوۓ تھے، گولیوں سے بچاؤ کے لیے ـ بچوں کی کتابیں ، کھلونے ، جوتیاں ہر جگہ پر بکھری ہوئی تھیں ـ سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے گھُومنا شروع ہو گیا۔
٭٭٭
اب مُجیب الرحمٰن کی کہانی سن لیں۔ مُجیب الرحمٰن کو 25 مارچ کی رات میری ہی بٹالیئن کے بندے گرفتار کرنے گۓ۔ اُس وقت میں مغربی پاکستان میں ہی تھا۔ بٹالیئن کے کمانڈنگ افسر کرنل زیڈ اے خان تھے۔ ’بانگلہ بُندُو’ کا گھر مزاحمت کاروں کی حفاظت میں تھا۔ جب اتنی طاقت ور فورس مشین گن کا فائر کرتے ہوۓ وہاں پہنچی تو تمام گارڈ اور مزاحمت کاربھاگ گۓ۔ زیڈ اے خان نے مجھے سنایا کہ میں نے مُجیب الرحمٰن کو سیلوُٹ کیا اور کہا ’سر مجھے آپ کی گرفتاری کے آرڈر ہیں’۔ مُجیب الرحمٰن نے کچھ مہلت مانگی اور اپنا بکسہ وغیرہ پیک کیا۔ پھر سب لوگ جب سیڑیھیاں اتر رہے تھے تو کرنل زیڈ اے خان آگے تھے، اُن کے پیچھے مُجیب الرحمٰن اور سب سے پیچھے دو سپاہی تھے۔ اُن میں سے ایک سپاہی نے مُجیب الرحمٰن کو تھپڑ مارا۔
اب کرنل نےوہ سارا پروٹوکول دِیا جو کہ ایک پڑھا لکھا تہزیب یافتہ انسان دے گا، جو کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایک رکن کو گرفتار کرنے آیا ہے۔ لیکن وہ جو سپاہی تھا وہ ایک اور سطح پر تھا۔ اُسے بہت غُصہ تھا اِس آدمی پر جو اُس کے خیال میں شرارت کی ساری جڑ تھا۔
کرنل زیڈ اے خان نے بتایا کہ شام تک مُجیب الرحمٰن ہمارے پاس رہا پھرہم نے اسے ہینڈ اوور کر دِیا اور اسی رات اس کو مغربی پاکستان بھیج دِیا گیا۔ لیکن اس وقت تک وہ اتنا خوف زدہ ہو چکا تھا کہ اُس سے کوئ بھی بات کرتا تو وہ چونک کر اپنے چہرے کے آگے ہاتھھ کر لیتا۔ سو دیکھیں اُس لیڈر کے ساتھ کیا حشر ہؤا۔
بہت سال بِیت گۓ۔ کرنل زیڈ اے خان بریگیڈئیر بنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ’71 کی جنگ پر کتاب بھی لکھی جِس میں اِس بات کا ذکر ضرور ہو گا جو اُنہوں نے مُجھے سنائ کہ ایک سینیئر جرنل نے اُن سے پوچھا ’تُم نے اُس کو مارا کیوں نہیں؟’ تو میں نے جواب دیا ’سر مجھے ایسا کوئ آرڈر نہیں دِیا گیا اور نہ ہی آپ کوئ ایسی توقع رکھیں کہ میں ایسا آرڈر پُورا کروں گا’ تو جرنل بولا ’تُم عجیب بیوقوف ہو۔ کیا ہم اُس کو مار سکتے تھے جب ساری دُنیا کو پتہ چل چُکا تھا کہ ہم نے اس کو حراست میں لے لیا ہے؟ یہ اُس حرامزادے کو مارنے کا سُنہری موقع تھا۔
This was a golden opportunity to kill the bastard.
زیڈ اے خان کہنے لگے کہ میں اپنے سپاہی کو بُرا بھلا کہ رہا تھا کہ اُس نے تھپڑ کیوں مارا اور اِدھر یہ حال ہے۔
٭٭٭
یہ کہانی تقریبا جولائ کے آخر میں سامنے آئ۔
ٹونی میسکیریناس ہمارا اے پی پی کا بندہ ہوتا تھا جو کمیلا میں رہتا تھا۔ کمیلا ہمارا ڈیویثنل ہیڈکوارٹر تھا۔ جنرل شوکت رضا ہمارے بہت اچھے جرنیل تھے جنہوں نے 65’ اور ’71 کی جنگوں کے بارے میں کتابیں لِکھی ہیں، بڑا سیانا آدمی تھا۔ جوکچھ اُدھر ہو رہا تھا وہ اس کا حصہ بالکل بھی نہیں بنا اور پورے ایکشن میں واحد آدمی تھا جو الگ تھلگ رہا۔ تب جرنل بیگ اس کاسٹاف افسرتھا۔ اُس وقت وہ لیفٹینینٹ کرنل تھا۔ میں کرنل بیگ کو جانتا تھا، ہیڈ کوارٹر گیا تو ان سے ملا۔ جنرل شوکت رضا میرے پرانے انسٹرکٹر تھے، میں ان سے بھی ملاقات ہو گئ۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ جو بھی ہو رہا ہے اِن لوگوں کو کوئ سمجھ نہیں یہ کیا کر رہے ہیں۔
کرنل بیگ سے بات چیت ہوئ تو اُس نے کہا میں نے تو گلاب کے پھول لگاۓ ہوۓ ہیں۔ بس ان کو دیکھتا رہتا ہوں۔ تو ٹونی میسکیریناس بھی وہیں کہیں ان کے پاس تھا۔ ادھر سے وہ بھاگ گیا اور براستہ کلکتہ، لندن پہنچ گیا۔ وہاں جا کر اس نے اپنی کہانی ٹائمز آف لندن کو بیچی۔ اس میں کہا گیا کہ جرنل بیگ لوگوں کو اپنے پھول وغیرہ دکھاتا ہے لیکن اس کا سگنل افسر یہ کہانی سناتا تھا کہ ’میں تجربہ کر رہا تھا تو سوچا کہ دیکھا جاۓ کہ کِتنے بنگالیوں میں سے گولی گزرتی ہے اگر وہ ایک قطار میں کھڑے کیۓ جایئں۔ تو میں نے آٹھھ بندے ایک لائن میں کھڑے کروا کر ایم ون بندوق ایک بندے کے سامنے رکھی اور فائر کیا تو گولی آٹھوں میں سے گزرگئ ’۔ تو اس طرح کی اور کہانیاں ٹونی میسکیریناس نے اکٹھی کیں اور لندن سے شائع ہوئیں۔ ہم سب کو اس کی فوٹو کاپی بانٹی گئ اور ساتھھ آرڈر آیا کہ صحافیوں سے بے مطلب باتیں نہ کی جائیں، نو لُوز ٹاک ! مجھے لگا میں کچھ کرتے ہوۓ پکڑا گیا ہوں۔
اس دوران غیرملکی صحافی بھی آنا شروع ہو گۓ تھے۔ ڈھاکہ میں ان کو اِنٹرکونٹینینٹل ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اور ان سے بات چیت کرنے کی ڈیوٹی بھی میری تھی۔
٭٭٭
اب کہیں آکر پرانے بندوں کے سا تھـ کوئ رابطہ ہوا ہےـ کچھـ دن ہوے میرے گھر وہ شخص آیا جو بنگال میں میرا ڈ رنکنگ بڈی تھا ـ میجر مجیب الرحمان جن کو ہم مُوزی کے نام سے بلاتے تھے ـ وہ جنرل مشرف کا کورس میٹ ہے ـ تو ان کے اور گورنر سرحد کے مہمان کے طور پر آیا ہوا تھا ـ وہ کہیں سے میرا پتہ کرتے کرتے یہاں پہنچ گیا ـ اس نے مجھے دیکھا تو کہا کہ تم تو بوڑھے ہو گئے ہو تم نے کیا اپنی حالت بنائی ہوئی ہے ـ وہ ابھی تک اُسی دنیا میں رہ رہا تھا جس میں ہم دونوں جوان میجر ڈرنکنگ بڈی یعنی ہم پیالہ تھےـ
ایک تو اس سے میری بڑی دوستی تھی اور دوسرا اس کا بھائی میرا شاگرد تھا ـ کیونکہ وہ بنگالی تھا تو اس نے مغربی پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کی تو اس کو بارڈر پر کسی افسر نے پکڑ لِیا۔ پُوچھھ گوچھ کے دوران اُس سے سوال کیآ گیا کہ تمہارا اُستاد کون تھا تو اس نے کہا میجر نادر جو پی ایم اے میں انسٹرکٹر ہیں ـ وہ افسر میرا دوست نکلاً اور اس نے مُوزی کے بھائی کو کہا کہ چلو ’’ چل د فع ہو جا بھاگ جا ـ پکڑے جاو گے تو مارے جاو گے،، ـ یُوں وہ بچ گیا اور پھر گھر پہنچ کر اُس نے مجھے شکریہ کا خط بھی ڈالاً ـ اس کے بعد سے دونوں بھائی مجھے ڈھونڈتے رہے ـ لیکن اب کہیں جا کر وہ پچھلے سال مجھے ملا ـ تو جب وہ یہاں آیا تو اس کے ساتھـ ایک آدمی تھا جو اس کمپنی کا ڈائریکٹر تھا جس کے ساتھہ موزی بزنس کر رہا ہے تو باتوں باتوں میں میں نے یہ کہہ ڈالاً کہ فوج ہی پیچھا نہیں چھوڑتی کیا مصیبت ہے ـ تو موزی نے ایک دم دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ میں پاکستان آرمی کے خلاف میں کچھـ نہیں سننا چاہتا ـ میں نے اسے ہنس کر گالی دی اور کہا کہ اب تّو آگیا ہے یہاں مجھے لیکچر دینے ـ خیر کچھـ دیر بعد اس کا بزنس مین ساتھی اّٹھـ کر اندر نماز پڑھنے گیا تو مُوزی نے سرگوشی میں مجھـ سے کہا کہ بھئ یہ بندہ پاکستان کا بڑا زبردست حامی ہے اور مجھے پتہ تھا کہ تم اس طرح کی کوئی نہ کوئی بکواس کرو گے اور یہ بندہ سنے گا تو اس کو بُرا لگے گا ـ اس لیے میں تمہیں خبردار کر رہا ہوں کہ تم کوئی اور بات نہ کرو ـ
اب آپ دیکھیں کہ مجھے کتنے عجیب کردار ملنا شروع ہو گئے ہیں ـ خالدہ ضیاء جب پاکستان آئیں تو ان کے ساتھـ ایک جوان کپتان بھی تھاـ وہ اور ایک ریٹائرڈ برگیڈیر یہاں لاہور میں اپنے کسی پرانے استاد کے پاس آئے ہوئے تھے ـ میں ان دو بنگالی افسروں سے ملا ـ تو میں نے نوجوان کپتان سے پوچھا کہ ’’ تم کہاں ٹرین ہوئے ہو،، تو اس نے کہا کہ ’’کمیلاً اکیڈمی،،ـ میں نے پوچھا کہ’’71ء کی جنگ پڑھاتے ہیں،، تو وہ بولاً کہ ہاں پڑھاتے ہیں لیکن ہمیں اس کی کچھـ خاص پرواہ نہیں ـ
We are all for Pakistan
ہم سب پاکستان کے حق میں ہیں ـ میں نے کہا تم کس چکر میں پاکستان کے حق میں ہوـ
اتنی دیر میں بنگالی برگیڈ یر نماز پڑھ کر واپس آیا تو میں نے اس سے کہا آپ کا نوجوان کپتان تو کہہ رہا ہے ’’ آئی ایم آل فور پاکستان،، ـ تو اس نے جواب دیا کہ یہ 71 ء کی جنگ کے بعد پیدا ہوا تھا ـ اور اب کیونکہ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے خلاًف شدید جذبات پائے جاتے ہیں تو اس وجہ سے فوج میں بھی پاکستان کی حمایت بڑھ گئی ہے ـ پھر کچھـ وقفہ بعد وہ بولاً لیکن میں کس طرح پاکستان کا حامی ہو سکتا ہوں ـ میری کہانی تو تمھیں یاد ہوگی ـ اس بر گیڈ یر کی بہن پاکستان آرمی کی واحد بنگالی لیڈ ی ڈاکٹر تھی ـ مغربی پاکستان کے فوجیوں نے اس کو ریپ کیا اور پھر قتل کردیا جیسور میں ـ وہ برگیڈ یر کہنے لگا ’’ اس زخم کی یاد تو دن رات ہمارے خاندان کے ساتھـ ہوتی ہے ،، ہمارے لیے تو جنگ ابھی تک جاری ہے ـ ہم ابھی بھی اس دنیا میں بستے ہیں ـ حا لاً نکہ میں بہت مسلمان ہوں اور روایتی خیا لاً ت نہیں رکھتا آپ کے سامنے ہے کہ میں اپنے استاد کو ڈھونڈتا ڈھونڈتا یہاں لاہور میں اس کے گھر بیٹھا ہوں ـ لیکن دنیا اتنی تیزی سے تبدیل ہو چکی ہے کہ میں کسی اور دنیا میں بستا ہوں اور یہ نوجوان کپتان کسی اور دنیا میں ـ
٭٭٭
ہماری بٹالیئن کا ہیڈ کوارٹرڈھاکہ میں تھا ـ اس کے علاًوہ کچھـ حصے کمیلاً اور رنگا متی میں بھی تھے جہاں کا میں مارشل ایڈ منسٹر یٹر تھا ـ اس کے علاًوہ جہاں جہاں ایکشن ہوا مثلاً رنگ پور، فرید پور ، باری سال ، جے سور وغیرہ وہاں مختلف نوعیت کے مشن ہوتے تھےـ کہیں سرحد پار ایکشن کی پلاًننگ کرنی ہوتی تو کہیں پر کمانڈ وز کی ضر ورت ہوتی ـ اب کہنے کو تو جنگ لگی ہوئی تھی ـ ایک سطح پر تو ہم کلب جارہے تھے اور چا ئنیز کھانا کھا کر سو جاتے تھے اور دوسری طرف بندے مارے بھی جا رہے تھے ـ مثلاً انڈین آرمی کے تربیت یافتہ لوگ سبوتاج کرتے تھے ـ لیکن عام حالاًت میں کو ئی مزاحمت وغیرہ نہیں تھی اور میں بلاً خطر جنگی علاًقے میں اکیلاً گاڑی چلاًتا رہتا تھا ـ
میرے اپنے ہاتھوں کسی بے گناہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی ـ لیکن میں جہاں جاتا وہاں کسی نہ کسی سانحہ کی کہانی آپ کے لیے تیار کھڑی ہوتی ـ جیسے میں سنتہار پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ کے آنے سےپہلے اس شہر کے ہر آدمی کو قتل کر دیا گیاہے ـ یہ ایک بنگالی ریلوے کالونی تھی ـ اس طرح کے غیر انسانی کاموں کے لیے دوسرے لوگ دستیاب تھے اور ہم کمانڈوز کو قیمتی تصور کیا جاتا تھا اور ایسے ایکشن کروائے جاتےتھے جس میں دشمن کے عقب میں جا کر پیچھے سے حملہ کرنا ہوتا تھا ـ
خیر اس طرح کی کہانیوں نے میرے میں احساسِ جرم شدید کردیا ـ میں کسی گاؤں وغیرہ جاتا تو وہاں کے انتہائی غریب لوگ فوج سے دب کر بیٹھے ہوتے ـ
اس دوران مجھـ سے کہا گیا کہ میں واپس مغربی پاکستان جاؤں تاکہ میری کرنل کے عہدے پر ترقی ہو سکے ـ میں واپس نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ ڈھاکہ میں میں ایک انتہائی اہم شخص بن چکا تھا اور اپنے اس ہیرو جیسے رول کوبہت انجؤائے کر رہا تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہیرو بننا انتہائی آسان تھاـ کیونکہ مجھے مشرقی پاکستان میں رہنے کا تجربہ تھا اور دوسرا یہ بھی معلوم تھا کہ اصل میں اتنی مزاحمت یا خطرہ نہیں ہے جتنا بڑھا چڑھا کر بیا ن کیا جا رہا ہے ـ اس لیے میں بے دھڑک پورے مشرقی پاکستان میں سفر کرتا ـ جب کہ مغربی پاکستان سے آئے ہوے افسر خوف کے مارے باہر نہ نکلتے ـ بس میرے نمایاں ہونے کے لیے اتنا ہی کافی تھا ـ کتنی ہی دفعہ ایسی رپورٹیں آئیں کہ فلاًں جگہ پر انتہائی سخت مزاحمت کا سامنا تھا ـ لیکن جب وہاں ہم پہنچتے تو وہاں نہ بندہ نہ بندے کی ذات ـ اس طرح کا واقعہ ایک دو دفعہ تو ہو سکتا ہے لیکن جب بیسیوں دفعہ ایسا ہوا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ سب کہانیاں ہیں ـ
بعد میں جو میرا بریک ڈاون ہوا اس کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ میرے جیسے غریب بندے کو ایک دم اتنی لفٹ مل جائےتو یہ کسی بھی انسان کو پاگل کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے ـ
اس کے ساتھـ ساتھـ مجھے احساس جرم بھی تھا کہ میں یہاں آیا کیوں ـ بعد میں میں نے جب اس پر سوچا تو مجھے احساس ہوا کہ جس وقت میں اپنی پرستش بطور ہیرو انجوائے کر رہا تھا اس وقت میرے آس پاس لوگ مارے جارہے تھے ـ اس کے ساتھـ ساتھـ مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ـ میری توجہ محدود ہوکر بس سرحد پار ایکشن تک ہی رہ گئی تھی ـ کسی قسم کے حملے یا جر نل نیازی کے منصوبے کیا ہیں اس کے بارے میں تو کبھی سوچا نہ تھا ـ
اب میں بٹالیئن سے فارغ ہوا تو میرے الوداعی ڈنر شروع ہوگئےـ مجھے جرنل نیازی نے بھی گھر بلاًیاـ اس دوران میں نے بہت زیادہ شراب پینا شروع کردی اور آہستہ آہستہ مجھـ پر یہ اّجاگر ہونا شروع ہوا کہ میرے ساتھـ ہوا کیا ہے ـ
اس دوران مجھے مغربی پاکستان سے ایک فوجی دوست کا خط ملاً ـ جس میں اس نے مشرقی پاکستان میں کسی بائیں بازو کی جماعت سے رابطہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی ـ اب جب میری آخری رات تھی اگلی صبح میری فلاًئیٹ تھی تو انٹر کانٹینینٹل ہوٹل میں ڈرنک کرنے کے بعد مجھـ کو ایک پیغام موصول ہوا کہ فلاًں نمبر کمرے میں آپ کو کوئی ملنا چاہتا ہےـ تو مجھے لگا کہ شاید یہ بائیں بازو جماعت کی طرف سے کوئی پیغام ہے ـ مجھے اپنا دماغ حقیقت سے کٹا ہوا محسوس ہونا شروع ہوگیا ـ اگلی صبح جہاز میں بھی میں اس کیفیت میں ڈوبتا ابھرتا رہاـ میرے ذہن میں ایک ایسی کہانی نے جنم لینا شروع کیا جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا ـ مجھے یقین ہوگیا کہ میں عام انسانوں کا مسیحا ہوں ـ ان کو ظلم سے نجات دلاًنے والاً ہوں اور میرے خلاًف کچھـ لوگ سازش کر رہے ہیں ـ جب میں کراچی لینڈ کیا تو کچھـ لمحوں کے لیے میں اس کیفیت سے نکل آیا اور میں نے اپنے آپ کو کہا کہ تم یہ کیا بکواس سوچ رہے تھے ـ لیکن لاًہور پہنچتے تک میں واپس اسی خیالی د نیا میں جا چکا تھا ـ یہاں ایک اور بات کہنی ضروری ہے کہ میرے ذ ہنی کیفیت میں واپس جانے
کی وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان میں کسی کو خبر تک نہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں کیا ظلم اور بربادی ہورہی ہے ـ کراچی شہرویسے ہی رواں دواں تھاـ لا ہور میں ہم جم خانہ جا کر ڈرنک کرتے تھے اور وہاں سلہری صاحب قا ئد اعظم کے پاکستان کے کسی باریک نقطہ پر لیکچر دے رہے ہوتے ـ یعنی کہ پورا ملک اصل حقیقت سے بے خبر اور لاًپرواہ روزمرہ کے معمول پر چل رہا تھا ـ یہاں مجھے ایک انکوئری پر بٹھا دیا گیا جس میں ڈیڑھ کروڑ کا گھٹیا قسم کے صابن خریدے جانے کی تفتیش کرنی تھی ـ اب آپ خود سوچیں کہ میں ایک جنگی کیفیت میں سے اٹھـ کر ایک ایسی جگہ پر آ گیا ہوں جہاں پر لوگ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں اور ان سے اگر مشرقی پاکستان کی بات کرو تو وہ کہتے ہیں کہ چھوڑیں جی کوئی اور بات کریں ـ اب میں نے اور زیادہ شراب پینا شروع کردی ـ
میں دن کی کم از کم ایک بوتل پی جاتا ـ میں نے کھانا بھی چھوڑ دیا کیونکہ اس سے میری شراب کا مزہ خرےب ہو جاتا تھا ـ اب میری حالت اور بدتر ہونا شروع ہوگئ اور میں آہستہ آہستہ دیوانگی کی حدود میں داخل ہوگیا ـ مجھے لگتا تھا کہ میں ہی دنیا کا اہم ترین انسان ہوں جس نے پوری دنیا کو بچانا ہے ـ میں اپنی خیا لی دنیا میں ہی رہتا تھاـ میری جو دفتری خط و کتابت ہوتی تھی اس میں مجھے خفیہ پیغام نظر آنا شروع ہو گئے ـ مجھے لگتا تھا کہ ٹی ـ وی مجھـ سے مخاطب ہے ـ ریڈیو بھی مجھـ سے مخاطب ہے ـ پوری دنیا مجھـ سے مخاطب ہے ـ تو اس طرح میں نے دو سال دنیا پر حکومت کرکے دیکھا ہے ـ لیکن یہ میری بیوی اور بچوں کے لیے انتہا ئی تکلیف دہ وقت تھا ـ لیکن کیونکہ میں فطرتا سخت گیر نہیں تھا او ر تشدد کو پسند نہیں کرتا تھا اس لیے میری یہ کیفیت لوگوں پر ظاہر نہ ہوئی ـ بچوں کے ساتھـ میں با لکل ٹھیک تھا اور پیار کرتا تھا ـ لیکن آہستہ آہستہ میرے صبر کا پیمانہ لبر یز ہوتا گیا کیونکہ میری خیالی دنیا میں مجھے اپنے ساتھیوں سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا ـ جبکہ میرے خیال میں میری آدھی دنیا میرے ساتھـ تھی ـ تو میں اپنی ٹو ٹو رائفل لے کر روسی سفارتخا نے کے باہر چلاً گیا جہاں باہر بیٹھے ایک کوے کو میں نے فائر کرکے مار دیا ـ یہ میرا خفیہ سگنل تھا کہ چلو باہر نکلو اور پیپلز ریپبلک کا اعلاًن کرو ـ لیکن انھوں نے بھی اس پاگل کا کوئی دھیا ن نہیں کیا ـ یہ کہانی چلتی رہی جب تک کہ مجھے ہسپتال نہ لے جایا گیا ـ ہسپتال میں تقریبا چار مہینے رہا اس طرح کے حالات میں آپ کا عہدہ واپس لے لیا جاتا ہے لیکن انہوں نے اس طرح نہیں کیا اور میں کرنل ہی رہا ـ پھر جب ہوش آیا تو یاد آیا کہ میں نے کس طرح خیالی چیزوں کا تصور کرنا شروع کیا تھا ـ پھر مجھے وہ خط بھی یاد آیا جو مجھے ڈھاکہ کے انٹر کا نٹینینٹل میں مجھے ملاً تھا ـ وہ جو کال اور ما یا کا جو گھیرا تھا وہ مجھے نظر آنا شروع ہوگیا ـ ڈاکٹر کو میں نے کہانی سنائی تو اس نے کہا کہ میں نے کبھی ایسا مریض نہیں دیکھا جس کو کہانی کا پتہ بھی ہے اور پھر بھی وہ پاگل ہو گیا ـ میں نے کہا کہ مجھے وہ کہانی تو اب یاد آئی ہے ـ
اس دوران میرے ساتھـ ایک سانحہ یہ ہوا کہ میرے والد مجھے دیکھنے ہسپتال آئے تو میری حالت بہت خراب تھی میں اپنی یاداشت کھو چکا تھا اور میرا منہ کھلاً رہتا تھا ـ مجھے دیکھـ کر وہ گاؤں گئے رات کو سونے لیٹے اور پھر کبھی نہ اُٹھے ـ مجھے ڈاکٹر نے کہا کہ تم اپنی ایک نئی سیویلین زندگی شروع کرو ـ فوج میں تو کوئی تمھیں ترقی نہیں دے گا ـ سو میں نے ریٹا ئر منٹ لے لی ـ اس کے بعد بھی کا فی عرصے میں دیوانگی کی سرحد کے آس پاس ہی رہتا تھا ـ لیکن کچھـ اچھے لوگوں کا ساتھـ مل گیا جس کی وجہ سے میں بچا رہا ـ
اب میں نے اپنے ذہنی انتشار کے بارے میں بہت سوچا اور مجھے یہی سمجھـ آیا کہ یہ کسی احساس جرم کا نتیجہ تھا ـ اب میں پنجابی میں کہانیاں اور نظمیں لکھتا ہوں ـ جن میں غیر شعوری طور پر بنگال کے تجربات اور واقعات کا ذکر ہوتا ہے ـ واپس بنگلہ دیش جانے کا سوچتا ہوں ابھی بھی ادھر کچھـ دوست ہیں ـ دیکھئے کیا ہوتا ہے ـ
———————————————————————————————————-
Leave a comment